Jobs advertisment Government jobs private jobs All information about the government and private jobs online application form registration everything is available. Pakistaan army pakistan navy pakistan ranger

Breaking

hi hi

Friday, June 25, 2021

کبوتر کو دانہ ڈالنا۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبوتر کو دانہ ڈالنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکول کے دنوں میں شکاری کی دانہ ڈال کے معصوم کبوتروں پھندے میں پھنسانے کی کہانی سنا کرتے تھے، دانے کی لالچ کبوتر کو شکنجے میں مقید کرا دیتی تھی،

بالکل اسی طرح موجودہ زمانہ میں مختلف کاروباری حضرات اپنے گاہک کو "دانہ" ڈالتے نظر آتے ہیں، کھبی کٹ پرائس کے نام پے ، کبھی دکان چھوڑ سیل کے نام پے،کبھی موسم گرما سیل پے تو کبھی موسم سرما سیل کے نا م پے، کبھی جمعہ بازار سیل کے نام پے، مقصد واحد صرف اور صرف گاہک کی جیب ڈھیلی کرنا ہوتا ہے،

اس "دانے" کی ہر حالت میں کامیاب "وار" کے لیے مختلف حربے حیلے اختیار کیے جاتے ہیں، اکثر و بیشتر پرنٹ میڈیا، الیکڑونک میڈیا، سوشل میڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے، گاہک یعنی معصوم بلکہ بے وقوف کبوتر کہیں تو بہتر ہوگا اس "دانہ" کے دام میں پھنسے بلکہ دھنسے جاتے ہیں، 

آجکل تو اکثریت کمبخت تو "صنف نازک" کا "دانہ" ڈآلتے نظر آتے ہیں، گاہک صرف اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے چکر میں ہی جیب ڈھیلی کرا لیتے ہیں، اب خود سوچیں ریما کو "گال" دکھانے کی، "شردھا" کو بال دکھانے کی آخر کیا ضرورت پڑی ہے، کمبخت کروڑوں "گاہکوں" کی "رال ٹپکنے" کا جوکھن اُٹھاتی پھرتی ہیں،

معزرت کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ ملا حضرات بھی "جنت" کا دانہ ڈالتے نظر آتے ہیں، 

اگر بات کریں سیاسندانوں کی تو یہ بھی کسی سے پیچھے رہنے والے نہیں، روٹی کپڑا اور مکان، کرپشن فری پاکستان، قرض اتارو ملک سنوارو، پڑھا لکھا پنجاب، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی کا اختتام، روزگار کا ہر ممکن اہتمام، بنیادی تعلیم کا گھر گھر تک انتظام، صحت کا اعلان وغیرہ وغیرہ سب "دانے" عوامی کبوتروں کو اپنے دام میں پھنسانے کے حربے ہیں، الیکشن جیتنے کے بعد عوامی کبوتروں کی دوڑیں لگوائی جاتی ہیں، اور ہم بھی انتہائی پرلے درجے کے بیوقوف کبوتر ہیں پانچ سال کے بعد (خدانخواستہ لوٹ مار کی مفاہمت کامیاب ٹھہرے) کسی اور "غؤل" کے کبوتروں کے "جمگھٹے" میں شامل ہو کے کسی اور کی "منڈیر" پے جا بیٹھتے ہیں، اور پھر وہی "دانہ"، پھر وہی "غٹر گوں غٹر گوں"، پھر وہی "ملا کی دوڑ مسجد تک والی اُڑان" ہمارا مقدر ٹھہرتی ہے۔

 



No comments: